ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ایس پی سربراہ کا فیصلے ٹالنے کی حیثیت کسی کی نہیں:شیوپال

ایس پی سربراہ کا فیصلے ٹالنے کی حیثیت کسی کی نہیں:شیوپال

Thu, 15 Sep 2016 19:56:14    S.O. News Service

لکھنؤ، 15؍ستمبر(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )وزیر اعلی اکھلیش یادو کے ساتھ اختلافات کے پیچھے بیرونی شخص کی کردار کے تذکرہ کے درمیان ان کے چچا اور سینئر کابینہ وزیر شیو پال سنگھ یادو نے آج کہا کہ سب کو جوڑنے سے پارٹی کو مضبوطی ملے گی اور سماج وادی پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو کے فیصلے کو کاٹنے کی حیثیت کسی کی نہیں ہے۔شیو پال نے سماج وادی پارٹی سربراہ کے ساتھ کل چلی میراتھن ملاقات کے بعد لکھنؤ لوٹنے پر نامہ نگاروں سے بات چیت میں وزیر اعلی سے تلخی کے پیچھے بیرونی شخص کے کردار کے بارے میں پوچھنے پر کوئی سیدھا جواب نہ دیتے ہوئے کہا کہ سب کو جوڑنے سے ہی تنظیم کو مضبوطی ملے گی۔میں بہت پہلے سے کہتا آرہا ہوں کہ جتنے بھی لوہیاوادی، گاندھی وادی اور چودھری چرن سنگھ کو ماننے والے ہیں، وہ سب کے سب متحد ہوں۔سماج وادی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن امر سنگھ کو بیرونی شخص بتائے جانے پر انہوں نے کہا کہ نیتا جی نے جو بھی فیصلہ کیا، کس کو پارٹی میں شامل کریں گے ، کس کو ہٹائیں گے ، کسے ذمہ داری دیں گے، ان کی بات کاٹنے کی کسی کی مجال نہیں ہے۔نیتا جی نے جو ذمہ داری دی ہے، وہ مجھے قبول ہے۔شیو پال نے کہا کہ سال 2011میں ہم ریاستی صدر تھے، تب بھی اسی طریقے سے مجھے ہٹا کر اکھلیش کو صدر بنایا گیا تھا، اس وقت میں نے بھی قبول کیا تھا، لیکن مجھے یہ نہیں پتہ تھا کہ مجھے اتنی جلدی صدر بنا دیا جائے گا۔خود سے تعمیرات عامہ ، ریونیو ور کوآپریٹو جیسے اہم شعبہ چھینے جانے کے بارے میں انہوں نے کہاکہ میں نے اپنے محکموں میں پورا کام کر دیا ہے۔محکموں سے بڑی ذمہ داری تنظیم ہے۔
شیوپال نے کہا کہ انتخابات میں تمام کارکنوں کو لگانا ہے، پھر سے حکومت بنانی ہے، اب ہمارے لیے محکمہ ضروری نہیں ہیں۔ضروری یہ ہے کہ ہمیں متحد رہنا چاہیے، انتخابات کا وقت ہے۔2017میں دوبارہ حکومت بنانی ہے۔پارٹی آئین میں شق نہ ہونے کے باوجود خود کو پارٹی کی اترپردیش یونٹ کا انچارج بنائے جانے کے سوال پر انہوں نے کہاکہ نیتا جی کوئی بھی فیصلہ لے سکتے ہیں۔بی ایس پی سربراہ مایاوتی کی طرف سے پارٹی کے اہم لیڈروں کے درمیان اختلافات کے درمیان ایس پی سربراہ ملائم سنگھ یادو کو سنیاس لینے کا مشورہ دیئے جانے پر شیو پال نے کہاکہ مایاوتی کی رائے لینا ضروری نہیں ہے۔ان کی رائے سے ہماری پارٹی تھوڑے ہی چلے گی، وہ اپنی رائے اپنے پاس رکھیں۔غورطلب ہے کہ ماضی کچھ مہینوں سے سنگین اختلافات سے دو چار ملائم خاندان کی داخلی کش مکش گذشتہ 13؍ستمبر کو اس وقت بڑھ گئی تھی ، جب وزیر اعلی اکھلیش یادو نے ریاست کے چیف سکریٹری دیپک سنگھل کو ہٹا دیا تھا۔سنگھل اکھلیش کے چچا کابینہ وزیر شیو پال سنگھ یادو کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔جیسے کو تیسا کی طرز پر ملائم نے بیٹے اکھلیش سے ریاست ایس پی صدر کا عہدہ چھین کر شیو پال کو دے دیا، لیکن کچھ ہی گھنٹوں میں وزیر اعلی اکھلیش نے شیو پال سے تعمیرات عامہ ، آبپاشی اور کوآپریٹو جیسے اہم شعبہ چھین لئے تھے۔وزیر اعلی نے کل کہا تھا کہ جھگڑا خاندان کا نہیں بلکہ حکومت کا ہے۔انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ جب بیرونی لوگ دخل اندازی کریں گے تو حکومت کس طرح چلے گی۔


Share: